مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے آج پارلیمنٹ کے اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ حالیہ فتنہ امریکی حمایت سے ایک دہشت گردی کی جنگ تھی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ فتنہ بارہ روزہ جنگ کا تسلسل تھا؛ رہبر انقلاب اسلامی کے مطابق یہ فتنہ امریکی صدر کی ہدایات اور مداخلت کے ذریعے بھڑکایا گیا تھا۔
انہوں نے تعارفات کو چھوڑ کر، سب سے پہلے قتل عام کا حکم دیا اور جب دہشت گردی کی جنگ کے منصوبے کی ناکامی کے آثار ظاہر ہوئے تو انہوں نے دہشت گردوں اور فسادی ٹولے کو احتجاج جاری رکھنے اور سڑکوں پر رہنے کی دعوت دی اور ایران میں فساد، ناامنی اور قتل عام جاری رکھنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیوں کو استعمال کیا۔
ڈاکٹر قالیباف نے کہا کہ دشمن کا منصوبہ یہ تھا کہ واضح تشدد، منظم حملوں، دہشت گردی اور مسلح حملوں کے ذریعے ایک انتہائی اندرونی جنگ چھیڑ دی جائے جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ، رضا کارفورسز، قانون نافذ کرنے والوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کا قتل عام ہوجائے۔ دشمن چاہتا تھا کہ ایرانی عوام ایک دوسرے کی جان کے پیچھے پڑ جائے اور نتیجے میں شکست کھا جائے اور جب قوم کا شیرزہ بکھر جائے تو اس دہشت کے عالم میں امریکہ مستقیم حملہ آور ہوجائے اور ایران کو بھی بعض دیگر ممالک کی طرح امریکی کالونی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ امریکی- صہیونی فتنے میں دشمن کی شکست نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ایران اس شجاع اور حکیم رہبر قیادت میں اور بابصیرت و با ایمان عوام کی مدد سےعالمی دہشت گردوں اور وطن فروشوں کی ناک زمین پر رگڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کی نا متعادل حالت میں آئے روز ہزیان گوئی کرتا پھر رہا ہے۔
قالیباف نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای عزیز نہ فقط ہمارے رہبر اور قائد ہیں بلکہ وہ ایرانی قوم کی جان ہیں اور امریکی صدر اور غاصب اسرائیلی سفاک رہنماؤں سمیت تمام عالمی مستکبروں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی مستضعف اقوام اور تمام حریت پسندوں کے پیشوا ہیں۔ وہ ایک ایسا مرد میدان ہیں جنہوں نے اپنی پوری عمر ایران کی آزادی و استقلال اور اسلام کے اعلیٰ اہداف کے حصول میں صرف کی ہے۔ راہ حق میں ان کی استقامت اور پائیداری کی وجہ سے عصر حاضر کے فرعون غصے میں آشفتہ ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے شہید بھائیوں کے خون کی قسم کھاتے ہیں کہ ہم اس عظیم ملک، اس سمجھدار عوام اور اس حکیم رہنما کے حامی اور فداکار رہیں گے۔ عالمی مستکبرین کو معلوم ہونا چاہئے کہ آج ایرانی عوام انقلاب اسلامی کی حفاظت کے لیے ہر طرح کی قربانی پیش کرنے کے لئے تیار ہے اور یک آوازہو کر اعلان کرتی ہے :
ہماری رگوں میں دوڑتا ہوا خون اپنے عظیم رہبر پر قربان ہو
آپ کا تبصرہ